وقت سب کا گزر جائے گا


 ۔۔۔ وقت سب کا گزر گیا ۔۔ وقت سب کا گزر رہا ہے ۔۔۔ کوئی آدمی بھی وقت سے آزاد نہیں

جو لوگ اس دھرتی پر بہت خوش ہیں وہ بھی تو وقتی ہی ہیں ۔۔۔۔ یعنی ان کا بھی اختتام ہے اور جو بہت زیادہ رنج میں ہیں وہ بھی تو وقتی ہیں ۔۔۔۔ وقت دونوں کا گزر جائے گا ۔۔۔۔۔ میں کسی کو صلاح دی کہ کوئی وقت تو ہمارا ایسا ہو کہ جس میں وقت ۔۔۔ وقت ہو ۔۔۔۔ سوال آیا کہ یہ جو گزار رہے ہیں یہ کیا ہے ؟؟؟ جواب دیا کہ وہم و گماں ہے

یہ گنا نہیں جا رہا ۔۔۔۔ پھر خود سے ہی کہا کہ ہاں گنا جا رہا ہے لیکن کسی اور کھاتے میں ۔۔۔۔ ہمارا بھی وہاں ذکر ہوتا ہے لیکن خوشی میں نہیں ۔۔۔۔ اس کا بھی ذکر ہوتا ہے تعجب اور خوشی میں ۔۔۔۔۔ احتجاجی روح تھی تو کہا کہ ملوا دو کہ میرا وقت بھی گنا جائے لیکن میرے حق میں ۔۔۔ میں نے کہا سوچ لو مزاحمت بڑی ہو گی ۔۔۔ اس نے کہا کہ کسی وقت ختم بھی ہو جائے گی کیا ؟؟ میں نے کہا کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ دریا کی فطرت ڈبونا ہے ۔۔۔۔ ہم اتنا احسان کریں گے کہ تیراکی سکھا دیں گے ۔۔۔ ہاتھ پاؤں مارنا سکھا دیں گے ۔

ہاتھ پاؤں مارنے کے دوران والی تھکاوٹ ہمیں بھی ہوتی ہے تمہیں بھی ہو گی ۔ ہاتھ پاؤں مارتے رہنا کنارے کو پہنچو گے ۔۔۔۔ اس نے کہا کہ اگر نہ پہنچا تو ؟؟؟ تو سردار نے جواب دیا کہ ہاتھ پاؤں مارنے والوں میں اٹھائے جاؤ گے ۔۔۔ زمین سکیڑ کر فاصلہ کم کر دیں گے ۔۔۔۔ اختتام اس عہد پر ہوا کہ اگر وہ چاہے گا تو ہاتھ پاؤں مارتے رہیں گے ۔۔۔۔

خانقاہ اسدیہ ۔۔۔ پاکپتن شریف

سجاد میراں

Comments